سیلاب سے نمٹنے کے لیے جامع منصوبہ ناگزیر

پشاور: ریٹائرڈ سپرنٹنڈنگ انجینئر محکمہ آبپاشی خیبر پختونخوا اور سابق انچارج فلڈ وارننگ سیل انجینئر عبدالولی خان یوسفزئی نے پاکستان میں مون سون بارشوں کے دوران شہری سیلاب، سڑکوں کی تباہی اور نکاسی آب کے مسائل سے نمٹنے کے لیے جامع انجینئرنگ اور منصوبہ بندی پر مبنی حکمت عملی اختیار کرنے پر زور دیا ہے۔

انجینئر عبدالولی خان یوسفزئی کے مطابق پاکستان کا بنیادی مسئلہ بارش نہیں بلکہ Water Management ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ قدرتی نالوں، دریاؤں اور بارش کے پانی کے قدرتی راستوں پر تجاوزات، ناقص نکاسی آب، غیر مؤثر شہری منصوبہ بندی اور سڑکوں کی تعمیر میں مناسب Drainage System شامل نہ ہونے کے باعث معمول کی شدید بارش بھی شہری سیلاب کا سبب بن جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بارش کو روکا نہیں جاسکتا، تاہم اس کے پانی کو مناسب منصوبہ بندی کے ذریعے منظم، ذخیرہ اور زیرِ زمین پانی کی سطح بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

انجینئر یوسفزئی نے تجویز دی کہ ملک میں سڑکوں کی تعمیر کے منصوبوں کی منظوری کو مکمل Stormwater Drainage Design سے مشروط کیا جائے۔ ان کے مطابق سڑک کے منصوبے میں Cross Fall، Side Drains، Stormwater Inlets، Culverts، Outfall، Erosion Protection اور مناسب Maintenance Plan شامل ہونا چاہیے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ سڑکوں پر کئی روز تک پانی کھڑا رہنے سے پانی سڑک کی بنیادی تہوں تک پہنچ جاتا ہے، جس سے سڑک کی مضبوطی متاثر ہوتی ہے اور بعد ازاں دراڑیں، گڑھے اور دیگر نقص پیدا ہونے لگتے ہیں۔ اس طرح ناقص Drainage کے باعث حکومت کو سڑکوں کی بار بار مرمت پر اضافی رقم خرچ کرنا پڑتی ہے۔

انجینئر یوسفزئی نے کہا کہ Sewerage اور Stormwater Drainage کو جہاں ممکن ہو الگ رکھا جائے، کیونکہ دونوں نظاموں کو ایک ساتھ چلانے سے شدید بارش کے دوران نکاسی آب کا نظام دباؤ کا شکار ہوکر سڑکوں اور آبادیوں میں آلودہ پانی پھیلانے کا سبب بن سکتا ہے۔

انہوں نے قدرتی نالوں کو شہری انفراسٹرکچر کا اہم حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ نالوں کو کچرے، ملبے اور تجاوزات سے پاک رکھنا ضروری ہے۔ ان کے بقول قدرتی نالے “Waste Land” نہیں بلکہ قدرتی Drainage Infrastructure ہیں، اور ان کے راستے بند کرنے سے بارش کا پانی نئے راستے تلاش کرتا ہے۔

انہوں نے نئی ہاؤسنگ سوسائٹیوں اور بڑے رہائشی منصوبوں کے لیے Flood Risk Assessment، Natural Drainage Map، Stormwater Drainage Plan، Sewerage Plan، Road Level Plan اور Outfall Plan کو لازمی قرار دینے کی تجویز دی۔

انجینئر یوسفزئی نے کہا کہ بڑے ترقیاتی منصوبوں میں Technical Clearance First — Administrative Approval Later کے اصول کو اپنانا چاہیے اور تکنیکی جانچ کے لیے آبپاشی، ہائیڈرولک، ہائی وے، ہائیڈرولوجی، جیو ٹیکنیکل، ماحولیاتی، GIS اور اربن پلاننگ کے ماہرین پر مشتمل کمیٹیاں تشکیل دی جانی چاہئیں۔

انہوں نے پشاور، نوشہرہ، مردان اور ملحقہ علاقوں کے لیے Kabul–Swat–Kalpani Integrated Hydraulic Model تیار کرنے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ مقامی بارش، دریائے سوات، دریائے کابل، کلپانی، مقامی نالوں اور زیریں علاقوں میں پانی کی سطح کو ایک مربوط نظام کے تحت دیکھا جانا چاہیے۔

دریائے کابل کے حوالے سے انہوں نے اٹک/کند کے مقام سے زیریں جانب تقریباً چار سے پانچ کلومیٹر دریا کے حصے کا مکمل Hydraulic اور Geometric Survey کرانے کی تجویز دی۔ ان کے مطابق دریا کی چوڑائی، Sedimentation، Flood Conveyance Capacity، Downstream Water Level اور Backwater Effects کا سائنسی جائزہ ضروری ہے تاکہ سیلابی خطرات میں کمی کے لیے مناسب اقدامات کیے جاسکیں۔

انہوں نے شہری اور نیم شہری علاقوں میں مناسب مقامات پر Detention Basins، Retention Ponds، Recharge Basins اور Rainwater Storage Areas بنانے کی تجویز بھی دی، تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایسے مقامات کا تعین بارش، Catchment Area، مٹی، زیرِ زمین پانی، زمین کی دستیابی اور Topography کو مدنظر رکھ کر کیا جانا چاہیے۔

انجینئر یوسفزئی نے بارش کے صاف پانی کو زیرِ زمین پانی کی سطح بہتر بنانے کے لیے استعمال کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مناسب مقامات پر Infiltration Basins اور Recharge Wells قائم کیے جاسکتے ہیں، تاہم آلودہ یا سیوریج کے پانی کو بغیر علاج کے زیرِ زمین پانی میں شامل کرنا خطرناک ہوگا۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مون سون سے کم از کم تین ماہ قبل بڑے شہروں میں Pre-Monsoon Engineering Audit شروع کیا جائے اور سڑکوں، نالوں، Culverts، پلوں، Pumping Stations اور Flood Channels کا جامع معائنہ کیا جائے۔

ان کے مطابق جدید Flood Warning System میں Weather Forecast، Rain Gauges، River Gauges، Satellite، GIS، Real-Time Monitoring اور Impact-Based Warning کو مربوط کیا جانا چاہیے تاکہ عوام کو صرف پانی کی سطح میں اضافے سے آگاہ کرنے کے بجائے خطرے کے مقام، محفوظ راستوں اور انخلا کے طریقہ کار سے بھی بروقت آگاہ کیا جاسکے۔

انجینئر یوسفزئی نے جماعت آٹھویں سے بارہویں تک طلبہ کے لیے Flood اور Disaster Safety Education کو نصاب کا حصہ بنانے اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے اسکولوں میں سالانہ Flood Evacuation Drills کرانے کی تجویز دی۔

انہوں نے ہر سیلابی خطرے سے دوچار یونین کونسل میں Community Flood Volunteers تیار کرنے پر بھی زور دیا، جو ہنگامی صورتحال میں وارننگ، محفوظ راستوں، انخلا اور ریسکیو اداروں سے رابطے میں معاونت کرسکیں۔

انجینئر یوسفزئی نے کہا کہ پاکستان کو سیلاب آنے کے بعد صرف ریسکیو، امداد اور سڑکوں کی مرمت تک محدود رہنے کے بجائے Risk Mapping، Drainage، Storage، Recharge، Early Warning، Evacuation اور Resilient Reconstruction پر مبنی نظام اختیار کرنا ہوگا۔

انہوں نے محدود مالی وسائل کے پیش نظر High-Risk Areas First کے اصول کے تحت سرمایہ کاری کرنے کی تجویز دی اور کہا کہ ان علاقوں کو ترجیح دی جائے جہاں بار بار شہری سیلاب آتا ہے، اہم شاہراہیں، ہسپتال، بازار اور رہائشی علاقے متاثر ہوتے ہیں یا قدرتی Drainage Corridors موجود ہیں۔

انہوں نے تاریخی Hydrological Data کو قومی اثاثہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دریاؤں، بارشوں، سیلابوں اور پانی کے بہاؤ سے متعلق تاریخی ریکارڈ کو محفوظ رکھنے کے لیے Physical Archives کے ساتھ Digital، Cloud اور Off-Site Backups بھی لازمی ہونے چاہئیں۔

انجینئر یوسفزئی نے سپرنٹنڈنگ انجینئر سنٹر سرکل نارتھ، محکمہ آبپاشی خیبر پختونخوا خالد خٹک کو تاریخی Hydrological Data دوبارہ جمع، منظم اور محفوظ کرنے کی کوششوں پر خراجِ تحسین بھی پیش کیا۔

انہوں نے کہا کہ Hydrological Data کی بنیاد پر Flood Forecasting، River Modelling، Flood Frequency Analysis، Floodplain Mapping، Water Resources Planning اور Climate Impact Assessment جیسے اہم کام کیے جاتے ہیں، اس لیے ایسے ریکارڈ کا تحفظ قومی ترجیح ہونا چاہیے۔

انجینئر عبدالولی خان یوسفزئی نے اپنے پیغام میں کہا کہ “پانی ہمارا دشمن نہیں بلکہ اللہ کی رحمت ہے” اور اگر اس کے قدرتی راستوں کا احترام، مناسب Drainage، Storage اور Recharge کا انتظام کیا جائے تو یہی پانی پاکستان کی زراعت، معیشت اور مستقبل کی نسلوں کے لیے ایک اہم قومی اثاثہ بن سکتا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو ہر سیلاب کے بعد صرف یہ سوال نہیں کرنا چاہیے کہ “کتنا نقصان ہوا؟” بلکہ یہ بھی پوچھنا چاہیے کہ “اگلے سیلاب میں نقصان کیسے کم کیا جائے؟”

ان کے مطابق اس کا حل Engineering، Planning، Drainage، Storage، Recharge، Early Warning، Public Awareness اور مضبوط Governance پر مشتمل مربوط حکمت عملی میں ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *